Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
319 - 872
حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حضرت مسطح بن اثاثہ پر بڑا غصہ آیایہ آپ کے خالہ زاد بھائی تھے اور بچپن ہی میں ان کے والد وفات پا گئے تھے تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کی پرورش بھی کی تھی اور ان کی مفلسی کی وجہ سے ہمیشہ آپ ان کی مالی امداد فرماتے رہتے تھے مگر اس کے باوجود حضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے بھی اس تہمت تراشی اور اس کا چرچا کرنے میں کچھ حصہ لیا تھا اس وجہ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے غصہ میں بھر کر یہ قسم کھا لی کہ اب میں مسطح بن اثاثہ کی کبھی بھی کوئی مالی مدد نہیں کروں گا،اس موقع پر اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ:
وَ لَا یَاۡتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنۡکُمْ وَ السَّعَۃِ اَنۡ یُّؤْتُوۡۤا اُولِی الْقُرْبٰی وَ الْمَسٰکِیۡنَ وَالْمُہٰجِرِیۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ ۪ۖ وَلْیَعْفُوۡا وَلْیَصْفَحُوۡا ؕ اَلَا تُحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَکُمْ ؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۲﴾ (1) (نور)
اور قسم نہ کھائیں وہ جو تم میں فضیلت والے اور گنجائش والے ہیں قرابت والوں اور مسکینوں اور اﷲ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو دینے کی اور چاہیے کہ معاف کریں اور درگزر کریں کیا تم اسے پسند نہیں کرتے کہ اﷲ تمہاری بخشش کرے اور اﷲ بہت بخشنے والا اور بڑا مہربان ہے۔

اس آیت کوسن کرحضرت ابوبکرصدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی قسم توڑڈالی اور پھرحضرت مسطح بن اثاثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کاخرچ بدستورسابق عطافرمانے لگے۔(2)(بخاری حدیث الافک ج۲ ص۵۹۵ تا ۵۹۶ املخصاً)
1۔۔۔۔۔۔پ۱۸،النور:۲۲

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۶۴
Flag Counter