| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
پھرحضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجدنبوی میں ایک خطبہ پڑھااورسوره نورکی آیتیں تلاوت فرماکرمجمع عام میں سنادیں اورتہمت لگانے والوں میں سے حضرت حسان بن ثابت وحضرت مسطح بن اثاثہ وحضرت حمنہ بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اوررئیس المنافقین عبداﷲبن ابی ان چاروں کوحدقذف کی سزامیں اسّی اسّی درے مارے گئے۔(1) (مدارج جلد۲ص ۱۶۳وغیرہ) شارح بخاری علامہ کرمانی علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی براء ت اورپاک دامنی قطعی ویقینی ہے جوقرآن سے ثابت ہے اگرکوئی اس میں ذرا بھی شک کرے تووہ کافرہے۔(2)(بخاری جلد۲ ص۵۹۵) دوسرے تمام فقہاءِ امت کا بھی یہی مسلک ہے۔
آیت تیمم کا نزول
ابن عبدالبر و ابن سعد و ابن حبان وغیرہ محدثین و علماء سیرت کا قول ہے کہ تیمم کی آیت اسی غزوہ مریسیع میں نازل ہوئی مگر روضۃ الاحباب میں لکھا ہے کہ آیت تیمم کسی دوسرے غزوہ میں اتری ہے۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔(3)(مدارج النبوۃ ج ۲ ص۱۵۷)
بخاری شریف میں آیت تیمم کی شان نزول جو مذکور ہے وہ یہ ہے کہ حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ ہم لوگ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم لوگ مقام ''بیداء'' یا مقام'' ذات الجیش'' میں پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر گیا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور کچھ لوگ اس ہار کی تلاش میں وہاں ٹھہر گئے1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۶۳ 2۔۔۔۔۔۔حاشیۃ صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب حدیث الافک،حاشیۃ:۹،ج۲،ص۵۹۶ 3۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۵۷،۱۵۸