یہ کہتی ہوئی انہوں نے کروٹ بدل کر منہ پھیر لیااور کہا کہ اﷲ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس تہمت سے بری اور پاک دامن ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اﷲ تعالیٰ ضرور میری براء ت کو ظاہر فرما دے گا۔(2) حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا جواب سن کر ابھی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور ہر شخص اپنی اپنی جگہ پر بیٹھا ہی ہوا تھا کہ ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور آپ پر نزول وحی کے وقت کی بے چینی شروع ہو گئی اور باوجودیکہ شدید سردی کا وقت تھامگر پسینے کے قطرات موتیوں کی طرح آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے بدن سے ٹپکنے لگے جب وحی اتر چکی توہنستے ہوئے حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اے عائشہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہا تم خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی حمد کرو کہ اس نے تمہاری براء ت اور پاکدامنی کا اعلان فرما دیا اور پھر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن کی سورهٔ نور میں سے دس آیتوں کی تلاوت فرمائی جو