رات بلک بلک کر روتی رہیں اخر جب ان سے یہ صدمہ جاں کاہ برداشت نہ ہوسکا تو وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنی والدہ کے گھر چلی گئیں اور اس منحوس خبر کا تذکرہ اپنی والدہ سے کیا،ماں نے کافی تسلی و تشفی دی مگر یہ برابر لگاتار روتی ہی رہیں(1)
اسی حالت میں ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ اے عائشہ!رضی اللہ تعالیٰ عنہاتمہارے بارے میں ایسی ایسی خبر اڑائی گئی ہے اگر تم پاک دامن ہو اور یہ خبر جھوٹی ہے تو عنقریب خداوند تعالیٰ تمہاری براء ت کا بذریعہ وحی اعلان فرما دے گا۔ ورنہ تم توبہ و استغفار کر لوکیونکہ جب کوئی بندہ خدا سے توبہ کرتاہے اور بخشش مانگتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ گفتگو سن کر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے آنسو بالکل تھم گئے اور انہوں نے اپنے والد حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے کہا کہ آپ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا جواب دیجیے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کیا جواب دوں؟ پھر انہوں نے ماں سے جواب دینے کی درخواست کی تو ان کی ماں نے بھی یہی کہاپھر خود حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ جواب دیا کہ لوگوں نے جو ایک بے بنیاد بات اڑائی ہے اور یہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ چکی ہے اور کچھ لوگ اس کو سچ سمجھ چکے ہیں اس صورت میں اگر میں یہ کہوں کہ میں پاک دامن ہوں تو لوگ اس کی تصدیق نہیں کریں گے اور اگر میں اس برائی کا اقرار کر لوں تو سب مان لیں گے حالانکہ اﷲ تعالیٰ جانتاہے کہ میں اس الزام سے بری اور پاک دامن ہوں اس وقت میری مثال حضرت یوسف علیہ السلام کے باپ (حضرت یعقوب علیہ السلام) جیسی ہے لہٰذا میں بھی وہی کہتی ہوں