اور ان لوگوں (منافقوں) نے (اس بہتان میں)ایک ایسے مرد(صفوان بن معطل) کا ذکر کیا ہے جس کو میں بالکل اچھا ہی جانتا ہوں۔(1)(بخاری ج۲ ص۵۹۵ باب حدیث الافک)
حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی برسرمنبر اس تقریر سے معلوم ہوا کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ اور حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہما دونوں کی براء ت و طہارت اور عفت و پاک دامنی کا پورا پورا علم اور یقین تھااور وحی نازل ہونے سے پہلے ہی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یقینی طور پر معلوم تھا کہ منافق جھوٹے اور اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہاپاک دامن ہیں ورنہ آپ برسر منبر قسم کھا کر ان دونوں کی اچھائی کا مجمع عام میں ہر گز اعلان نہ فرماتے مگر پہلے ہی اعلان عام نہ فرمانے کی وجہ یہی تھی کہ اپنی بیوی کی پاکدامنی کا اپنی زبان سے اعلان کرنا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مناسب نہیں سمجھتے تھے،جب حد سے زیادہ منافقین نے شوروغوغا شروع کر دیا تو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے منبر پر اپنے خیال اقدس کا اظہار فرما دیامگر اب بھی اعلان عام کے لئے آپ کو وحی الٰہی کا انتظار ہی رہا۔
یہ پہلے تحریر کیا جا چکا ہے کہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سفر سے آتے ہی بیمار ہو کر صاحب فراش ہو گئی تھیں اس لئے وہ اس بہتان کے طوفان سے بالکل ہی بے خبر تھیں جب انہیں مرض سے کچھ صحت حاصل ہوئی اور وہ ایک رات حضرت اُم مسطح صحابیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ رفع حاجت کے لئے صحرا میں تشریف لے گئیں تو انکی زبانی انہوں نے اس دلخراش اور روح فرساخبر کو سنا۔ جس سے انہیں بڑا دھچکا لگااور وہ شدت رنج و غم سے نڈھال ہو گئیں چنانچہ ان کی بیماری میں مزید اضافہ ہو گیااور وہ دن