Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
315 - 872
کی لونڈی (حضرت بریرہ) سے پوچھ لیں وہ آپ سے سچ مچ کہہ دے گی۔(1)

حضرت بریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے جب آپ نے سوال فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!( صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ کو رسول برحق بنا کر بھیجا ہے کہ میں نے حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا میں کوئی عیب نہیں دیکھا،ہاں اتنی بات ضرور ہے کہ وہ ابھی کمسن لڑکی ہیں وہ گوندھا ہوا آٹا چھوڑ کر سو جاتی ہیں اور بکری آ کر کھا ڈالتی ہے۔(2)

پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی زوجہ محترمہ حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے دریافت فرمایاجو حسن و جمال میں حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے مثل تھیں تو انہوں نے قسم کھا کر یہ عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم
اَحْمِیْ سَمْعِیْ وَ بَصَرِیْ وَاللہِ مَا عَلِمْتُ اِلَّاخَیْرًا
میں اپنے کان اور آنکھ کی حفاظت کرتی ہوں خداکی قسم! میں تو حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو اچھی ہی جانتی ہوں۔(3)       (بخاری باب حدیث الافک ج۲ ص۵۹۶)

    اس کے بعدحضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر کھڑے ہو کر مسلمانوں سے فرمایا کہ اس شخص کی طرف سے مجھے کون معذور سمجھے گا،یا میری مدد کریگا جس نے میری بیوی پر بہتان تراشی کرکے میری دل آزاری کی ہے
، وَاللہِ مَا عَلِمْتُ عَلٰی اَھْلِیْ اِلَّاخَیْرًا
خدا کی قسم! میں اپنی بیوی کو ہر طرح کی اچھی ہی جانتا
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب حدیث الافک،الحدیث۴۱۴۱،ج۳،ص۶۳ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔السیرۃ الحلبیۃ ، غزوۃ بنی المصطلق ، ج۲ ، ص۴۰۲ ودلائل النبوۃ للبیھقی ، باب 

حدیث الافک،ج۴، ص ۶۸

3۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب حدیث الافک،الحدیث۴۱۴۱،ج۳،ص۶۶
Flag Counter