رضی اللہ تعالیٰ عنہامعاذاﷲ اگر ایسی ہوتیں تو ضرور اﷲ تعالیٰ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمپر وحی نازل فرما دیتا کہ ''آپ ان کو اپنی زوجیت سے نکال دیں۔''(1)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جب اس تہمت کی خبر سنی تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اے بیوی!تو سچ بتا!اگر حضرت صفوان بن معطل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی جگہ میں ہوتا تو کیا تو یہ گمان کر سکتی ہے کہ میں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حرم پاک کے ساتھ ایسا کر سکتا تھا؟ تو ان کی بیوی نے جواب دیا کہ اگر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی جگہ میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی بیوی ہوتی تو خدا کی قسم! میں کبھی ایسی خیانت نہیں کر سکتی تھی تو پھر حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جو مجھ سے لاکھوں درجے بہتر ہے اورحضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو بدر جہاتم سے بہتر ہیں بھلا کیونکر ممکن ہے کہ یہ دونوں ایسی خیانت کر سکتے ہیں؟(2)(مدارک التنزیل مصری ج۲ ص۱۳۴ تا ۱۳۵)
بخاری شریف کی روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس معاملہ میں حضرت علی اور اسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے جب مشورہ طلب فرمایا تو حضرت اُسامہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے برجستہ کہا کہ اَھْلُکَ وَلَا نَعْلَمُ اِلَّاخَیْرًا کہ یارسول اﷲ!( صلی اﷲتعالیٰ علیہ وسلم) وہ آپ کی بیوی ہیں اور ہم انہیں اچھی ہی جانتے ہیں،اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ جواب دیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اﷲ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں ڈالی ہے عورتیں ان کے سوا بہت ہیں اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ان کے بارے میں ان