Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
313 - 872
بیوی کا معاملہ تھااس لئے آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اپنی بیوی کی براء ت اور پاکدامنی کا اعلان کرنا مناسب نہیں سمجھااور وحی الٰہی کا انتظار فرمانے لگے اس درمیان میں آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے مخلص اصحاب سے اس معاملہ میں مشورہ فرماتے رہے تا کہ ان لوگوں کے خیالات کاپتاچل سکے۔(1)(بخاری ج۲ ص۵۹۴)

چنانچہ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جب آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس تہمت کے بارے میں گفتگو فرمائی تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمیہ منافق یقینا جھوٹے ہیں اس لئے کہ جب اﷲ تعالیٰ کو یہ گوارا نہیں ہے کہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جسم اطہر پر ایک مکھی بھی بیٹھ جائے کیونکہ مکھی نجاستوں پر بیٹھتی ہے تو بھلا جو عورت ایسی برائی کی مرتکب ہو خداوند قدوس کب اور کیسے برداشت فرمائے گا کہ وہ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجیت میں رہ سکے۔(2)

حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) جب اﷲ تعالیٰ نے آپ کے سایہ کوزمین پرنہیں پڑنے دیاتاکہ اس پرکسی کاپاؤں نہ پڑ سکے تو بھلا اس معبود برحق کی غیرت کب یہ گوارا کرے گی کہ کوئی انسان آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کے ساتھ ایسی قباحت کا مرتکب ہو سکے؟۔(3) حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے یہ گزارش کی کہ یا رسول اﷲ!(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)ایک مرتبہ آپ کی نعلین اقدس میں نجاست لگ گئی تھی تو اﷲ تعالیٰ نے حضرت جبریل علیہ السلام کو بھیج کرآپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کوخبردی کہ آپ اپنی نعلین اقدس کو اتاردیں اس لئے حضرت بی بی عائشہ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۵۹۔۱۶۱ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۶۱

3۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۶۱
Flag Counter