Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
312 - 872
لیٹی سوگئیں ایک صحابی جن کا نام حضرت صفوان بن معطل رضی اﷲ تعالیٰ عنہ تھاوہ ہمیشہ لشکر کے پیچھے پیچھے اس خیال سے چلا کرتے تھے تا کہ لشکر کا گرا پڑا سامان اٹھاتے چلیں وہ جب اس منزل پر پہنچے توحضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو دیکھا اور چونکہ پردہ کی آیت نازل ہونے سے پہلے وہ بارہا ام المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو دیکھ چکے تھے اس لئے دیکھتے ہی پہچان لیا اور انہیں مردہ سمجھ کر''اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن''پڑھااس آواز سے وہ جاگ اٹھیں حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فوراً ہی ان کو اپنے اونٹ پر سوار کر لیا اور خود اونٹ کی مہار تھام کر پیدل چلتے ہوئے اگلی منزل پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے۔(1)

منافقوں کے سردار عبداﷲ بن اُبی نے اس واقعہ کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا پر تہمت لگانے کا ذریعہ بنا لیااور خوب خوب اس تہمت کا چرچاکیایہاں تک کہ مدینہ میں اس منافق نے اس شرمناک تہمت کو اس قدر اچھالا اور اتنا شوروغل مچایا کہ مدینہ میں ہر طرف اس افتراء اور تہمت کا چرچا ہونے لگااوربعض مسلمان مثلاً حضرت حسان بن ثابت اور حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہم نے بھی اس تہمت کو پھیلانے میں کچھ حصہ لیا،حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس شرانگیز تہمت سے بے حد رنج و صدمہ پہنچااور مخلص مسلمانوں کو بھی انتہائی رنج و غم ہواحضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا مدینہ پہنچتے ہی سخت بیمار ہو گئیں،پردہ نشین تو تھیں ہی صاحب فراش ہو گئیں اور انہیں اس تہمت تراشی کی بالکل خبر ہی نہیں ہوئی گو کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی پاک دامنی کا پورا پورا علم و یقین تھامگر چونکہ اپنی
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب حدیث الافک،الحدیث۴۱۴۱،ج۳،ص۶۱ملتقطاً

ومدارج النبوت،قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۵۹ملتقطاًوملخصاً
Flag Counter