| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے نکاح سے بڑھ کر خیروبرکت والا نہیں دیکھاکہ اس کی وجہ سے تمام خاندان بنی المصطلق کو غلامی سے آزادی نصیب ہو گئی۔(1)(ابو داودکتاب العتق ج۲ ص۵۴۸) حضرت جویریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا اصلی نام ''برہ'' تھا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس نام کو بدل کر ''جویریہ'' نام رکھا۔(2)(مدارج جلد۲ ص۱۵۵)
واقعہ افک
اسی غزوہ سے جب رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ واپس آنے لگے تو ایک منزل پر رات میں پڑاؤ کیا،حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ایک بند ہودج میں سوار ہو کر سفر کرتی تھیں اور چند مخصوص آدمی اس ہودج کو اونٹ پر لادنے اور اتارنے کے لئے مقرر تھے،حضرت بی بی عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا لشکر کی روانگی سے کچھ پہلے لشکر سے باہر رفع حاجت کے لئے تشریف لے گئیں جب واپس ہوئیں تو دیکھا کہ ان کے گلے کا ہار کہیں ٹوٹ کر گر پڑا ہے وہ دوبارہ اس ہار کی تلاش میں لشکر سے باہر چلی گئیں اس مرتبہ واپسی میں کچھ دیر لگ گئی اور لشکر روانہ ہو گیاآپ کا ہودج لادنے والوں نے یہ خیال کرکے کہ اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہاہودج کے اندر تشریف فرما ہیں ہودج کو اونٹ پر لاد دیااور پورا قافلہ منزل سے روانہ ہو گیاجب حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا منزل پر واپس آئیں تو یہاں کوئی آدمی موجود نہیں تھاتنہائی سے سخت گھبرائیں اندھیری رات میں اکیلے چلنا بھی خطرناک تھااس لئے وہ یہ سوچ کر وہیں لیٹ گئیں کہ جب اگلی منزل پر لوگ مجھے نہ پائیں گے تو ضرور ہی میری تلاش میں یہاں آئیں گے، وہ لیٹی
1۔۔۔۔۔۔کتاب المغازی للواقدی ،غزوۃ المریسیع،ج۱،ص۴۱۰،۴۱۱ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۵۵