Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
308 - 872
ہیں اور ہم انصار عزت دار ہیں اگر ہم مدینہ پہنچے تو یقینا ہم ان ذلیل لوگوں کو مدینہ سے نکال باہر کر دیں گے۔(1) (قرآن سورۂ منافقون)

حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب اس ہنگامہ کا شورو غوغا سنا تو انصار و مہاجرین سے فرمایا کہ کیا تم لوگ زمانہ جاہلیت کی نعرہ بازی کر رہے ہو؟ جمالِ نبوت دیکھتے ہی انصار و مہاجرین برف کی طرح ٹھنڈے پڑ گئے اور رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چند فقروں نے محبت کا ایسا دریا بہا دیا کہ پھر انصار و مہاجرین شیروشکر کی طرح گھل مل گئے۔

    جب عبداﷲ بن اُبی کی بیہودہ بات حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے کان میں پڑی تو وہ اس قدر طیش میں آ گئے کہ ننگی تلوار لے کر آئے اور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ! صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نہایت نرمی کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اے عمر!رضی اللہ تعالیٰ عنہ خبردار ایسا نہ کرو، ورنہ کفار میں یہ خبر پھیل جائے گی کہ محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم)اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرنے لگے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بالکل ہی خاموش ہو گئے مگر اس خبر کا پورے لشکر میں چرچا ہو گیا،یہ عجیب بات ہے کہ عبداﷲ ابن اُبی جتنا بڑا اسلام اور بانی اسلام صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا دشمن تھا اس سے کہیں زیادہ بڑھ کر اس کے بیٹے اسلام کے سچے شیدائی اورحضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے جان نثار صحابی تھے ان کا نام بھی عبداﷲ تھا جب اپنے باپ کی بکواس کا پتا چلا تو وہ غیظ و غضب میں بھرے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اگر آپ میرے باپ کے قتل کو پسند فرماتے ہوں تو میری تمنا ہے کہ کسی دوسرے کے بجائے میں خود اپنی تلوار سے اپنے باپ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۵۶ملخصاً
Flag Counter