| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
آوری کی خبر ہوگئی تو اس پر ایسی دہشت سوار ہو گئی کہ وہ اور اس کی فوج بھاگ کر منتشر ہو گئی مگر خود مریسیع کے باشندوں نے لشکر اسلام کا سامنا کیا اور جم کر مسلمانوں پر تیر برسانے لگے لیکن جب مسلمانوں نے ایک ساتھ مل کر حملہ کر دیا تو دس کفار مارے گئے اور ایک مسلمان بھی شہادت سے سرفراز ہوئے،باقی سب کفار گرفتارہو گئے جن کی تعداد سات سو سے زائد تھی،دو ہزار اونٹ اور پانچ ہزار بکریاں مال غنیمت میں صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ہاتھ آئیں۔(1)(زُرقانی ج ۲ص ۹۷ تا ۹۸) غزوہ مریسیع جنگ کے اعتبار سے تو کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا مگر اس جنگ میں بعض ایسے اہم واقعات درپیش ہو گئے کہ یہ غزوہ تاریخ نبوی کا ایک بہت ہی اہم اور شاندار عنوان بن گیا ہے،ان مشہور واقعات میں سے چند یہ ہیں:
منافقین کی شرارت
اس جنگ میں مال غنیمت کے لالچ میں بہت سے منافقین بھی شریک ہوگئے تھے ایک دن پانی لینے پر ایک مہاجر اور ایک انصاری میں کچھ تکرار ہو گئی مہاجر نے بلند آواز سے یاللمھاجرین(اے مہاجرو!فریادہے) اورانصاری نے یاللا نصار (اے انصاریو! فریادہے) کا نعرہ مارا،یہ نعرہ سنتے ہی انصار و مہاجرین دوڑ پڑے اور اسقدر بات بڑھ گئی کہ آپس میں جنگ کی نوبت آ گئی رئیس المنافقین عبداﷲ بن اُبی کو شرارت کا ایک موقعہ مل گیااس نے اشتعال دلانے کے لئے انصاریوں سے کہا کہ ''لو! یہ تو وہی مثل ہوئی کہ
سَمِّنْ کَلْبَکَ لِیَأْکُلَکَ
(تم اپنے کتے کو فربہ کروتا کہ وہ تمہیں کو کھا ڈالے) تم انصاریوں ہی نے ان مہاجرین کا حوصلہ بڑھا دیا ہے لہٰذا اب ان مہاجرین کی مالی امداد و مدد بالکل بند کر دو یہ لوگ ذلیل و خوار
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب غزوۃ المریسیع،ج۳،ص۳۔۸ ملتقطاً