کا سر کاٹ کر آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈال دوں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ نہیں ہر گز نہیں میں تمہارے باپ کے ساتھ کبھی بھی کوئی برا سلوک نہیں کروں گا۔(1)
(ابن سعد و طبری وغیرہ)
اور ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ مدینہ کے قریب وادی عقیق میں وہ اپنے باپ عبداﷲ بن ابی کا راستہ روک کر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ تم نے مہاجرین اور رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو ذلیل کہا ہے خداکی قسم!میں اس وقت تک تم کو مدینہ میں داخل نہیں ہونے دوں گاجب تک رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اجازت عطا نہ فرمائیں اور جب تک تم اپنی زبان سے یہ نہ کہو کہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تمام اولاد آدم میں سب سے زیادہ عزت والے ہیں اور تم سارے جہان والوں میں سب سے زیادہ ذلیل ہو، تمام لوگ انتہائی حیرت اور تعجب کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم وہاں پہنچے اور یہ دیکھا کہ بیٹا باپ کا راستہ روکے ہوئے کھڑا ہے ا ور عبداﷲ بن ابی زور زور سے کہہ رہا ہے کہ ''میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سب سے زیادہ عزت دارہیں۔'' آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ دیکھتے ہی حکم دیا کہ اس کاراستہ چھوڑدوتاکہ یہ مدینہ میں داخل ہوجائے۔(2)(مدارج النبوۃج۲ ص۱۵۷)