Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
306 - 872
غزوہ دُومۃ الجندل
ربیع الاول   ۵ھ؁ میں پتاچلاکہ ''مقام دومۃ الجندل'' میں جو مدینہ اور شہر دمشق کے درمیان ایک قلعہ کا نام ہے مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے ایک بہت بڑی فوج جمع ہو رہی ہے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک ہزار صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا لشکر لے کر مقابلہ کے لئے مدینہ سے نکلے،جب مشرکین کو یہ معلوم ہواتووہ لوگ اپنے مویشیوں اور چرواہوں کو چھوڑ کر بھاگ نکلے،صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے ان تمام جانوروں کو مال غنیمت بنا لیا اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تین دن وہاں قیام فرما کر مختلف مقامات پر صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے لشکروں کو روانہ فرمایا۔ اس غزوہ میں بھی کوئی جنگ نہیں ہوئی اس سفر میں ایک مہینہ سے زائد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ سے باہر رہے۔(1)       (زرقانی ج۲ ص۹۴ تا ۹۵)
غزوہ مُریسیع
اس کا دوسرا نام ''غزوہ بنی المصطلق'' بھی ہے ''مریسیع'' ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ سے آٹھ منزل دور ہے۔ قبیلۂ خزاعہ کا ایک خاندان ''بنو المصطلق'' یہاں آباد تھااور اس قبیلہ کا سردار حارث بن ضرار تھااس نے بھی مدینہ پر فوج کشی کے لئے لشکر جمع کیا تھا،جب یہ خبر مدینہ پہنچی تو ۲ شعبان  ۵ ھ؁ کو حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ پر حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ بنا کر لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے۔ اس غزوہ میں حضرت بی بی عائشہ اور حضرت بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما بھی آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں،جب حارث بن ضرار کو آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی تشریف
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب پنجم ،ج۲،ص۱۸۴ملخصاً
Flag Counter