(۴)اسی سال حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ام المؤمنین بی بی اُمِ سلمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔ (1)(مدارج جلد۲ ص۱۵۰)
(۵)اسی سال حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت بی بی فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے وفات پائی،حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنا مقدس پیراہن ان کے کفن کیلئے عطا فرمایااور ان کی قبر میں اتر کر ان کی میت کو اپنے دست مبارک سے قبر میں اتارا اور فرمایا کہ فاطمہ بنت اسد کے سوا کوئی شخص بھی قبر کے دبوچنے سے نہیں بچا ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صرف پانچ ہی میت ایسی خوش نصیب ہوئی ہیں جن کی قبر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود اترے:اوّل: حضرت بی بی خدیجہ، دوم:حضرت بی بی خدیجہ کا ایک لڑکا،سوم: عبداﷲ مزنی جن کا لقب ذوالبجادین ہے، چہارم:حضرت بی بی عائشہ کی ماں حضرت اُمِ رومان،پنجم: حضرت فاطمہ بنت اسد حضرت علی کی والدہ۔(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم اجمعین)(2)(مدارج جلد۲ ص۱۵۰)
(۶)اسی سال ۴ شعبان ۴ ھ کو حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی پیدائش ہوئی۔ (3)
(مدارج جلد ۲ ص۱۵۱)
(۷)اسی سال ایک یہودی نے ایک یہودی کی عورت کے ساتھ زناکیااوریہودیوں نے یہ مقدمہ بارگاہ نبوت میں پیش کیاتوآپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے تورات وقرآن دونوں کتابوں کے فرمان سے اس کوسنگسارکرنے کافیصلہ فرمایا۔(4)(مدارج جلد۲ ص۱۵۲)