| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
(۸)اسی سال طعمہ بن ابیرق نے جو مسلمان تھا چوری کی تو حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے قرآن کے حکم سے اس کاہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا،اس پروہ بھاگ نکلا اور مکہ چلا گیا۔ وہاں بھی اس نے چوری کی اہل مکہ نے اس کوقتل کرڈالایااس پر دیوار گر پڑی اور مر گیا یا دریامیں پھینک دیاگیا۔ایک قول یہ بھی ہے کہ وہ مرتدہوگیاتھا۔(1)(مدارج جلد۲ ص۱۵۳) (۹)بعض مؤرخین کے نزدیک شراب کی حرمت کا حکم بھی اسی سال نازل ہوااور بعض کے نزدیک ۶ھ میں اور بعض نے کہا کہ ۸ ھ میں شراب حرام کی گئی۔(2) (مدارج جلد ۲ ص۱۵۳)
دسواں باب
ہجرت کا پانچواں سال
۵ ھجنگ ِ اُحد میں مسلمانوں کے جانی نقصان کا چرچا ہو جانے اور کفار قریش اور یہودیوں کی مشترکہ سازشوں سے تمام قبائل کفار کا حوصلہ اتنا بلند ہو گیا کہ سب کو مدینہ پر حملہ کرنے کا جنون ہو گیا۔ چنانچہ ۵ ھ بھی کفر و اسلام کے بہت سے معرکوں کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔ ہم یہاں چند مشہور غزوات و سرایا کا ذکر کرتے ہیں۔
غزوہ ذات الرقاع
سب سے پہلے قبائل ''انمار و ثعلبہ'' نے مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کیا جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اِس کی اطلاع ملی توآپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے چارسوصحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کالشکراپنے ساتھ لیا اور ۱۰محرم ۵ھ کو مدینہ سے روانہ ہو کر مقامِ
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب چہارم ،ج۲،ص۱۵۲،۱۵۳ 2۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب چہارم ،ج۲،ص۱۵۳