Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
301 - 872
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخْرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ؕؔ مَا ظَنَنۡتُمْ اَنۡ یَّخْرُجُوۡا وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوۡنُہُمۡ مِّنَ اللہِ فَاَتٰىہُمُ اللہُ مِنْ حَیۡثُ لَمْ یَحْتَسِبُوۡا ٭ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمْ وَ اَیۡدِی الْمُؤْمِنِیۡنَ ٭ فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ ﴿۲﴾ (1)
اﷲ وہی ہے جس نے کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کیلئے (اے مسلمانو!) تمہیں یہ گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ انکے قلعے انہیں اﷲ سے بچا لیں گے تو اﷲ کا حکم ان کے پاس آ گیا جہاں سے ان کو گمان بھی نہ تھا اور اس نے ان کے دلوں میں خوف ڈال دیا کہ وہ اپنے گھروں کو خود اپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے ویران کرتے ہیں تو عبرت پکڑو اے نگاہ والو!(حشر)
بدر صغریٰ
جنگ ِ اُحد سے لوٹتے وقت ابو سفیان نے کہا تھا کہ آئندہ سال بدر میں ہمارا تمہارا مقابلہ ہو گا۔ چنانچہ شعبان یا ذوالقعدہ   ۴ ھ؁ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ کے نظم و نسق کا انتظام حضرت عبداﷲ بن رواحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سپرد فرما کر لشکر کے ساتھ بدر میں تشریف لے گئے۔ آٹھ روز تک کفار کا انتظار کیا ادھر ابو سفیان بھی فوج کے ساتھ چلا،ایک منزل چلا تھا کہ اس نے اپنے لشکر سے یہ کہا کہ یہ سال جنگ کے لئے مناسب نہیں ہے ۔کیونکہ اتنا زبردست قحط پڑا ہوا ہے کہ نہ آدمیوں کے لئے دانہ پانی ہے نہ جانوروں کے لئے گھاس چارا،یہ کہہ کر ابو سفیان مکہ واپس چلا گیا، مسلمانوں کے پاس
 1۔۔۔۔۔۔پ۲۸، الحشر:۲
Flag Counter