جو درخت تم نے کاٹے یا جن کو انکی جڑوں پر قائم چھوڑ دیے یہ سب اﷲ کے حکم سے تھاتاکہ خدا فاسقوں کو رسوا کرے
مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں جو درخت کاٹنے والے ہیں ان کا عمل بھی درست ہے اور جو کاٹنا نہیں چاہتے وہ بھی ٹھیک کہتے ہیں کیونکہ کچھ درختوں کو کاٹنا اور کچھ کو چھوڑ دینا یہ دونوں اﷲ تعالیٰ کے حکم اور اس کی اجازت سے ہیں۔(2)
بہر حال آخر کار محاصرہ سے تنگ آ کر بنو نضیر کے یہودی اس بات پر تیار ہوگئے کہ وہ اپنا اپنا مکان اور قلعہ چھوڑ کر اس شرط پر مدینہ سے باہر چلے جائیں گے کہ جس قدر مال و اسباب وہ اونٹوں پر لے جا سکیں لے جائیں،حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہودیوں کی اس شرط کو منظور فرما لیااور بنو نضیر کے سب یہودی چھ سو اونٹوں پر اپنا مال و سامان لاد کر ایک جلوس کی شکل میں گاتے بجاتے ہوئے مدینہ سے نکلے کچھ تو ''خیبر'' چلے گئے اور زیادہ تعداد میں ملک شام جا کر ''اذرعات'' اور ''اریحاء'' میں آباد ہو گئے۔
ان لوگوں کے چلے جانے کے بعد ان کے گھروں کی مسلمانوں نے جب تلاشی لی تو پچاس لوہے کی ٹوپیاں،پچاس زرہیں، تین سو چالیس تلواریں نکلیں جو حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قبضہ میں آئیں۔ (3)(زرقانی ج۲ ص۷۹ تا ۸۵)
اﷲ تعالیٰ نے بنو نضیر کے یہودیوں کی اس جلا وطنی کا ذکر قرآن مجید کی سورهٔ حشر میں اس طرح فرمایا کہ