Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
294 - 872
عزیز سمجھتا ہوں مگر میرے پیارے رسول صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مقدس پاؤں کے تلوے میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔ مجھے کبھی بھی یہ گوارا نہیں ہو سکتا۔ ؎

               مجھے ہو ناز قسمت پر اگر نام محمد(صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) پر

                  یہ سر کٹ جائے اور تیرا کف پا اس کو ٹھکرائے

                   یہ سب کچھ ہے گوارا پر یہ مجھ سے ہو نہیں سکتا

                   کہ انکے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے

یہ سن کر ابو سفیان نے کہا کہ میں نے بڑے بڑے محبت کرنے والوں کو دیکھا ہے۔ مگر محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے عاشقوں کی مثال نہیں مل سکتی۔ صفوان کے غلام ''نسطاس'' نے تلوار سے ان کی گردن ماری۔(1)(زرقانی ج۲ ص۷۳)
واقعۂ بیرمعونہ
ماہ صفر  ۴ ھ؁ میں ''بیرمعونہ'' کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ ابو براء عامر بن مالک جو اپنی بہادری کی وجہ سے ''ملاعب الاسنہ'' (برچھیوں سے کھیلنے والا) کہلاتا تھا،بارگاہ رسالت میں آیا،حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس کو اسلام کی دعوت دی،اس نے نہ تو اسلام قبول کیا نہ اس سے کوئی نفرت ظاہر کی بلکہ یہ درخواست کی کہ آپ اپنے چند منتخب صحابہ کو ہمارے دیار میں بھیج دیجئے مجھے امید ہے کہ وہ لوگ اسلام کی دعوت قبول کر لیں گے۔ آ پ نے فرمایا کہ مجھے نجد کے کفار کی طرف سے خطرہ ہے۔ ابو براء نے کہا کہ میں آپ کے اصحاب کی جان و مال کی حفاظت کا ضامن ہوں۔(2)
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب بعث الرجیع ،ج۲،ص۴۹۲۔۴۹۳    

2۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب بئرمعونۃ،ج۲،ص۴۹۶ومدارج النبوت،قسم سوم، باب چہارم،ج۲،ص۱۴۳والکامل فی التاریخ،السنۃ الرابعۃ من الہجرۃ،ذکربئرمعونۃ،ج۲،ص۶۳
Flag Counter