Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
293 - 872
رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی لاش مبارک کو گھوڑے سے اتار کر زمین پر رکھ دیا۔ خدا کی شان کہ ایک دم زمین پھٹ گئی اورلاش مبارک کو نگل گئی اور پھر زمین اس طرح برابر ہو گئی کہ پھٹنے کا نشان بھی باقی نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا لقب ''بلیع الارض''(جن کو زمین نگل گئی) ہے۔

اس کے بعد ان حضرات رضی اللہ تعالیٰ عنہمانے کفار سے کہا کہ ہم دو شیر ہیں جو اپنے جنگل میں جا رہے ہیں اگر تم لوگوں سے ہو سکے تو ہمارا راستہ روک کر دیکھو ورنہ اپنا راستہ لو۔ کفار نے ان حضرات کے پاس لاش نہیں دیکھی اس لئے مکہ واپس چلے گئے۔ جب دونوں صحابہ کرام نے بارگاہ رسالت میں سارا ماجرا عرض کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام بھی حاضر دربار تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ کے ان دونوں یاروں کے اس کارنامہ پر ہم فرشتوں کی جماعت کو بھی فخر ہے۔(1)

                 (مدارج النبوۃ جلد۲ ص۱۴۱)
حضرت زید کی شہادت
حضرت زید بن دثنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قتل کا تماشہ دیکھنے کے لئے کفار قریش کثیر تعداد میں جمع ہو گئے جن میں ابو سفیان بھی تھے۔ جب ان کو سولی پر چڑھا کر قاتل نے تلوار ہاتھ میں لی تو ابو سفیان نے کہا کہ کیوں؟ اے زید! سچ کہنا،اگر اس وقت تمہاری جگہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اس طرح قتل کئے جاتے توکیا تم اس کو پسند کرتے؟ حضرت زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ابو سفیان کی اس طعنہ زنی کو سن کر تڑپ گئے اور جذبات سے بھری ہوئی آواز میں فرمایا کہ اے ابو سفیان! خدا کی قسم! میں اپنی جان کو قربان کر دینا
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت ، قسم سوم ، باب چہارم ،ج۲،ص۱۴۱
Flag Counter