اس کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابہ میں سے ستر منتخب صالحین کو جو ''قراء'' کہلاتے تھے بھیج دیا۔یہ حضرات جب مقام ''بیرمعونہ'' پر پہنچے تو ٹھہر گئے اور صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کے قافلہ سالار حضرت حرام بن ملحان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا خط لے کر عامر بن طفیل کے پاس اکیلے تشریف لے گئے جو قبیلہ کارئیس اور ابوبراء کا بھتیجا تھا۔ اس نے خط کو پڑھا بھی نہیں اور ایک شخص کو اشارہ کر دیا جس نے پیچھے سے حضرت حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو نیزہ مار کر شہید کر دیا اور آس پاس کے قبائل یعنی رعل وذکوان اور عصیہ و بنو لحیان وغیرہ کو جمع کرکے ایک لشکر تیارکر لیااور صحابہ کرام پر حملہ کے لئے روانہ ہو گیا۔ حضرات صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم بیرمعونہ کے پاس بہت دیر تک حضرت حرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی واپسی کا انتظار کرتے رہے مگر جب بہت زیادہ دیر ہو گئی تو یہ لوگ آگے بڑھے راستہ میں عامر بن طفیل کی فوج کا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہو گئی کفار نے حضرت عمر و بن امیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے سوا تمام صحابہ کرام رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کوشہید کر دیا،انہی شہداء کرام میں حضرت عامر بن فہیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ جن کے بارے میں عامر بن طفیل کا بیان ہے کہ قتل ہونے کے بعد ان کی لاش بلند ہو کر آسمان تک پہنچی پھر زمین پر آ گئی،اس کے بعد ان کی لاش تلاش کرنے پربھی نہیں ملی کیونکہ فرشتوں نے انہیں دفن کر دیا۔(1)(بخاری ج۲ ص۵۸۷ باب غزوۃ الرجیع)
حضرت عمرو بن اُمیہ ضمری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو عامر بن طفیل نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میری ماں نے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مانی تھی اس لئے میں تم کو آزاد کرتا