Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
292 - 872
یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے اگر وہ چاہے گاتو میرے کٹے پٹے جسم کے ٹکڑوں پر برکت نازل فرمائے گا۔

حارث بن عامر کے لڑکے ''ابو سروعہ'' نے آپ کو قتل کیامگر خدا کی شان کہ یہی ابو سروعہ اور ان کے دونوں بھائی ''عقبہ'' اور''حجیر'' پھر بعد میں مشرف بہ اسلام ہوکر صحابیت کے شرف و اعزاز سے سرفراز ہو گئے۔(1)

             (بخاری ج۲ ص۵۶۹ و زُرقانی ج۲ ص۶۴ تا ۷۸)
حضرت خبیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اﷲ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت سے مطلع فرمایا۔ آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ جو شخص خبیب کی لاش کو سولی سے اتار لائے اس کے لئے جنت ہے۔ یہ بشارت سن کر حضرت زبیر بن العوام و حضرت مقداد بن الاسود رضی اﷲ تعالیٰ عنہما راتوں کو سفر کرتے اور دن کو چھپتے ہوئے مقام''تنعیم'' میں حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی سولی کے پاس پہنچے۔ چالیس کفار سولی کے پہرہ دار بن کر سو رہے تھے ان دونوں حضرات نے سولی سے لاش کو اُتارا اور گھوڑے پر رکھ کر چل دئیے۔چالیس دن گزر جانے کے باوجود لاش تروتازہ تھی اور زخموں سے تازہ خون ٹپک رہا تھا۔ صبح کو قریش کے ستر سوار تیز رفتار گھوڑوں پر تعاقب میں چل پڑے اور ان دونوں حضرات کے پاس پہنچ گئے،ان حضرات نے جب دیکھا کہ قریش کے سوار ہم کو گرفتار کر لیں گے تو انہوں نے حضرت خبیب
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع...الخ،الحدیث:۴۰۸۶،ج۳،ص۴۶

والمواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب بعث الرجیع ،ج۲،ص۴۸۲۔۴۸۷،۴۸۹ملخصاً
Flag Counter