لیکن حضرت خبیب اور حضرت زید بن دثنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کو کافروں نے باندھ دیا تھا اس لئے یہ دونوں مجبور ہو گئے تھے۔ ان دونوں کو کفار نے مکہ میں لے جا کر بیچ ڈالا۔ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جنگ ِ اُحد میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا اس لئے اس کے لڑکوں نے ان کو خرید لیاتاکہ ان کو قتل کرکے باپ کے خون کا بدلہ لیا جائے اور حضرت زید بن دثنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اُمیہ کے بیٹے صفوان نے قتل کرنے کے ارادہ سے خریدا۔ حضرت خبیب رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو کافروں نے چند دن قید میں رکھاپھر حدود ِحرم کے باہر لے جا کر سولی پر چڑھا کر قتل کر دیا۔ حضرت خبیبرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قاتلوں سے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی،قاتلوں نے اجازت دے دی۔ آپ نے بہت مختصر طور پر دو رکعت نماز ادا فرمائی اور فرمایا کہ اے گروہ کفار! میرا دل تو یہی چاہتا تھا کہ دیر تک نماز پڑھتا رہوں کیونکہ یہ میری زندگی کی آخری نماز تھی مگر مجھ کو یہ خیال آ گیا کہ کہیں تم لوگ یہ نہ سمجھ لو کہ میں موت سے ڈر رہا ہوں۔ کفار نے آپ کو سولی پر چڑھا دیا اس وقت آپ نے یہ اشعار پڑھے ؎