Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
290 - 872
عاصم بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں کسی کافر کی پناہ میں آنا گوارا نہیں کر سکتا۔ یہ کہہ کر خدا سے دعا مانگی کہ '' یااﷲ! تو اپنے رسول کو ہمارے حال سے مطلع فرما دے۔'' پھر وہ جوش جہاد میں بھرے ہوئے ٹیلے سے اترے اور کفار سے دست بدست لڑتے ہوئے اپنے چھ ساتھیوں کے ساتھ شہید ہو گئے۔ چونکہ حضرت عاصم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جنگ ِ بدر کے دن بڑے بڑے کفار قریش کو قتل کیا تھااس لئے جب کفار مکہ کو حضرت عاصم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی شہادت کا پتہ چلا تو کفار مکہ نے چند آدمیوں کو مقام رجیع میں بھیجا تا کہ ان کے بدن کا کوئی ایسا حصہ کاٹ کر لائیں جس سے شناخت ہو جائے کہ واقعی حضرت عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل ہو گئے ہیں لیکن جب کفار آپ کی لاش کی تلاش میں اس مقام پر پہنچے تو اس شہید کی یہ کرامت دیکھی کہ لاکھوں کی تعداد میں شہد کی مکھیوں نے ان کی لاش کے پاس اس طرح گھیرا ڈال رکھا ہے جس سے وہاں تک پہنچنا ہی نا ممکن ہوگیا ہے اس لئے کفارِ مکہ ناکام واپس چلے گئے۔ (1)(زرقانی ج۲ ص۷۳ و بخاری ج۲ ص۵۶۹)

باقی تین اشخاص حضرت خبیب و حضرت زید بن دثنہ و حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کفار کی پناہ پر اعتماد کرکے نیچے اترے تو کفار نے بدعہدی کی اور اپنی کمان کی تانتوں سے ان لوگوں کو باندھنا شروع کر دیا،یہ منظر دیکھ کر حضرت عبداﷲ بن طارق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ یہ تم لوگوں کی پہلی بدعہدی ہے اور میرے لئے اپنے ساتھیوں کی طرح شہید ہو جانا بہتر ہے۔ چنانچہ وہ ان کافروں سے لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔(2)(بخاری ج۲ ص۵۶۸ و زُرقانی ج۲ ص۶۷)
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع...الخ،الحدیث:۴۰۸۶،ج۳،ص۴۶ 

والمواھب اللدنیۃ وشرح الزرقانی،باب بعث الرجیع،ج۲،ص۴۷۷۔۴۸۱ملخصاً وص۴۹۳۔۴۹۵

ومدارج النبوت ، قسم سوم،باب چہارم ،ج۲،ص۱۳۸ ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری،کتاب المغازی، باب غزوۃ الرجیع...الخ، الحدیث:۴۰۸۶،ج۳،ص۴۶ 

والمواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی ، باب بعث الرجیع ،ج۲،ص۴۸۱
Flag Counter