عسفان و مکہ کے درمیان ایک مقام کا نام ''رجیع'' ہے۔ یہاں کی زمین سات مقدس صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے خون سے رنگین ہوئی اس لئے یہ واقعہ ''سریۂ رجیع'' کے نام سے مشہور ہے۔ یہ درد ناک سانحہ بھی ۴ ھ میں پیش آیا۔ اس کا واقعہ یہ ہے کہ قبیلہ عضل وقارہ کے چند آدمی بارگاہ رسالت میں آئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبیلہ والوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اب آپ چند صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو وہاں بھیج دیں تا کہ وہ ہماری قوم کو عقائد و اعمال اسلام سکھا دیں۔ ان لوگوں کی درخواست پر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے دس منتخب صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کوحضرت عاصم بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی ماتحتی میں بھیج دیا۔ جب یہ مقدس قافلہ مقام رجیع پر پہنچا تو غدار کفار نے بدعہدی کی اور قبیلۂ بنو لحیان کے کافروں نے دو سو کی تعداد میں جمع ہو کر ان دس مسلمانوں پر حملہ کر دیا مسلمان اپنے بچاؤ کے لئے ایک اونچے ٹیلہ پر چڑھ گئے۔ کافروں نے تیر چلانا شروع کیا اور مسلمانوں نے ٹیلے کی بلندی سے سنگ باری کی۔ کفار نے سمجھ لیا کہ ہم ہتھیاروں سے ان مسلمانوں کو ختم نہیں کر سکتے تو ان لوگوں نے دھوکہ دیا اور کہا کہ اے مسلمانو!ہم تم لوگوں کو امان دیتے ہیں اور اپنی پناہ میں لیتے ہیں اس لئے تم لوگ ٹیلے سے اتر آؤ حضرت