جلدوں میں بڑی بڑی ضخیم کتابیں اسی مضمون پر لکھ کرسعادت کونین سے سرفراز اور دولت دارین سے مالامال ہوگئے اوراس میں شک نہیں کہ ان بزرگان دین رحمہم اللہ تعالیٰ نے اپنی ان ضخیم کتابوں میں سیرت نبویہ کے تمام اہم عنوانوں پر سیر حاصل تفاصیل فراہم کی ہیں لیکن پھر بھی ان میں سے کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ ہم نے شہنشاہ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرت پاک کے تمام گوشوں کو مکمل کر کے اس کے تمام جزئیات کا احاطہ کرلیا ہے کیونکہ سیرت نبویہ کا ہر عنوان وہ بحر ناپیدا کنارہے کہ اس کو پارکر لینا بڑے بڑے اہل علم کے لئے اتنا ہی دشوار ہے جتنا کہ آسمان کے چاند وستاروں کو توڑ کر اپنے دامن میں رکھ لینا ۔
اب ظاہر ہے کہ جو کام علم وعمل کے ان سر بلند پہاڑوں سے نہ ہوسکا بھلا مجھ جیسے ناکارہ انسان سے اس کام کے انجام پاجانے کا کیونکر تصورکیا جاسکتاہے ؟اس لئے مجھے اسی میں اپنی خیریت نظر آئی کہ صرف چند اوراق کی ایک کتاب سیرت نبویہ کے موضوع پر لکھ کر مصنفین سیرت کی مقدس فہرست میں اپنا نام لکھوا لوں اور ان بزرگوں کی صف نعال میں جگہ پالینے کی سعادت حاصل کرلوں ۔
ثانیاً: یہ کہ انسانی مصروفیات کے اس دور میں جب کہ مسلمانوں کو اپنی ضروریات زندگی سے بالکل ہی فرصت نہیں مل رہی ہے اورعلمی تحقیقات سے ان کی ہمتیں کوتاہ اوردلچسپیاں ناپید ہوچکی ہیں اورذہن وحافظہ کی قوتیں بھی کافی حد تک ماؤف وکمزورہوچکی ہیں،آج کل کے مسلمانوں سے یہ امید فضول نظر آئی کہ وہ طویل ومفصل او رموٹی موٹی کتابوں کو پڑھ کر اس کے مضامین کو اپنے ذہن وحافظہ میں محفوظ رکھ سکیں گے ۔ لہٰذا اس حال وماحول کا لحاظ کرتے ہوئے میرے خیال میں یہی مناسب