اور دعثور عین غین ہو کر رہ گیا۔ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے فوراً تلوار اٹھا لی اور فرمایا کہ بول اب تجھ کومیری تلوار سے کون بچائے گا؟ دعثور نے کانپتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا کہ''کوئی نہیں۔'' رحمۃ للعالمین صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس کی بے کسی پر رحم آگیااور آپ نے اس کا قصور معاف فرما دیا۔دعثور اس اخلاقِ نبوت سے بے حد متاثرہوااور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیااور اپنی قوم میں آ کر اسلام کی تبلیغ کرنے لگا۔
اس غزوہ میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی اورحضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم گیارہ یاپندرہ دن مدینہ سے باہررہ کرپھرمدینہ آگئے۔(1)(زرقانی ج۲ص۱۵وبخاری ج۲ص۵۱۳)
بعض مورخین نے اس تلوار کھینچنے والے واقعہ کو ''غزوهٔ ذات الرقاع'' کے موقع پر بتایا ہے مگر حق یہ ہے کہ تاریخ نبوی میں اس قسم کے دو واقعات ہوئے ہیں۔ ''غزوهٔ غطفان'' کے موقع پر سر انور کے اوپر تلوار اٹھانے والا ''دعثور بن حارث محاربی'' تھاجو مسلمان ہو کر اپنی قوم کے اسلام کا باعث بنااور غزوہ ذات الرقاع میں جس شخص نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر تلوار اٹھائی تھی اس کا نام ''غورث'' تھا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا بلکہ مرتے وقت تک اپنے کفر پر اڑا رہا۔ ہاں البتہ اس نے یہ معاہدہ کر لیا تھا کہ وہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کبھی جنگ نہیں کریگا۔(2) (زُرقانی ج۲ ص۱۶)