ربیع الاول ۳ھ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ نجد کے ایک مشہور بہادر ''دعثور بن الحارث محاربی''نے ایک لشکر تیار کر لیا ہے تا کہ مدینہ پر حملہ کرے۔ اس خبر کے بعد آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم چارسوصحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی فوج لے کر مقابلہ کے لئے روانہ ہوگئے۔ جب دعثور کو خبر ملی کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ہمارے دیار میں آ گئے تو وہ بھاگ نکلا اور اپنے لشکر کو لے کر پہاڑوں پر چڑھ گیامگر اس کی فوج کا ایک آدمی جس کا نام ''حبان'' تھا گرفتار ہو گیا اور فوراً ہی کلمہ پڑھ کر اس نے اسلام قبول کر لیا۔
اتفاق سے اس روز زور دار بارش ہو گئی۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے لیٹ کر اپنے کپڑے سکھانے لگے۔پہاڑ کی بلندی سے کافروں نے دیکھ لیا کہ آپ بالکل اکیلے اور اپنے اصحاب سے دور بھی ہیں، ایک دم دعثور بجلی کی طرح پہاڑ سے اتر کر ننگی شمشیر ہاتھ میں لئے ہوئے آیااور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سر مبارک پر تلوار بلند کرکے بولا کہ بتائیے اب کون ہے جو آپ کو مجھ سے بچا لے؟ آپ نے جواب دیا کہ'' میرا اﷲ مجھ کو بچا لے گا۔'' چنانچہ جبریل علیہ السلام دم زدن میں زمین پر اتر پڑے اور دعثور کے سینے میں ایک ایسا گھونسہ مارا کہ تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی