Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
280 - 872
کھڑے ہو جاؤ اور پھر جہادمیں مشغول ہو جاؤ۔ اتفاق سے وہی کافر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے آگیا تو آپ نے فرمایا کہ اے ام عمارہ!رضی اﷲ تعالیٰ عنہادیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے جھپٹ کراس کافر کی ٹانگ پر تلوار کا ایسا بھرپور ہاتھ مارا کہ وہ کافر گر پڑااور پھر چل نہ سکا بلکہ سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا۔یہ منظر دیکھ کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے اُمِ عمارہ!رضی اﷲ تعالیٰ عنہاتو خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی کہ تو نے خداکی راہ میں جہاد کیا، حضرت بی بی اُمِ عمارہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم دعافرمائیے کہ ہم لوگوں کو جنت میں آپ کی خدمت گزاری کا شرف حاصل ہو جائے۔ اس وقت آپ نے ان کے لئے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لئے اس طرح دعا فرمائی کہ
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھُمْ رُفَقَائِیْ فِی الْجَنَّۃِ
یااﷲ!عزوجل ان سب کو جنت میں میرارفیق بنا دے۔

حضرت بی بی اُم عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا زندگی بھر علانیہ یہ کہتی رہیں کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی اس دعا کے بعد دنیا میں بڑی سے بڑی مصیبت بھی مجھ پر آجائے تو مجھے اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔(1) (مدارج ج۲ ص۱۲۶)
حضرت صفیہ کا حوصلہ
    حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پھوپھی حضرت بی بی صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے بھائی حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی لاش پر آئیں تو آپ نے انکے بیٹے حضرت زبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ میری پھوپھی اپنے بھائی کی لاش نہ دیکھنے پائیں۔حضرت بی بی
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب چہارم، ج۲،ص۱۲۶،۱۲۷
شہداءے کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم
Flag Counter