Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
279 - 872
ہوئے مشک میں پانی بھر بھر کر لاتی تھیں اور مجاہدین خصوصاً زخمیوں کو پانی پلاتی تھیں۔ اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضرت بی بی اُمِ سلیط رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی برابر پانی کی مشک بھر کر لاتی تھیں اور مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں۔(1)(بخاری ج۲ باب ذکراُمِ سلیط ص۵۸۲)
حضرت اُمِ عمارہ کی جاں نثاری
حضرت بی بی ام عمارہ جن کا نام ''نسیبہ'' ہے جنگ ِ اُحد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور دو فرزند حضرت عمارہ اور حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر آئی تھیں۔ پہلے تو یہ مجاہدین کو پانی پلاتی رہیں لیکن جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر کفار کی یلغار کا ہوش ربا منظر دیکھاتو مشک کو پھینک دیا اور ایک خنجر لے کر کفار کے مقابلہ میں سینہ سپر ہو کر کھڑی ہو گئیں اور کفار کے تیروتلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں۔ چنانچہ ان کے سر اور گردن پر تیرہ زخم لگے۔ابن قمیئہ ملعون نے جب حضور رسالت مآب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر تلوار چلا دی تو بی بی اُمِ عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے آگے بڑھ کراپنے بدن پر روکا۔ چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم آیا کہ غار پڑ گیاپھر خود بڑھ کر ابن قمیئہ کے شانے پر زور دار تلوار ماری لیکن وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھااس لئے بچ گیا۔

    حضرت بی بی ام عمارہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فرزند حضرت عبداﷲرضی اﷲ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے ایک کافر نے زخمی کر دیااور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا۔ میری والدہ حضرت اُمِ عمارہ نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھ دیااور کہا کہ بیٹا اُٹھو،
1۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب اذھمت طائفتان...الخ، الحدیث:۴۰۶۴، 

ج۳،ص۳۸وباب ذکرام سلیط،الحدیث:۴۰۷۱،ج۳،ص۴۱
Flag Counter