| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ مجھے اپنے بھائی کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکا ہے لیکن میں اس کو خدا کی راہ میں کوئی بڑی قربانی نہیں سمجھتی،پھر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی اجازت سے لاش کے پاس گئیں اوریہ منظر دیکھا کہ پیارے بھائی کے کان، ناک، آنکھ سب کٹے پٹے شکم چاک، جگر چبایا ہوا پڑا ہے، یہ دیکھ کر اس شیر دل خاتون نے اِنَّا ِﷲِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کے سوا کچھ بھی نہ کہاپھر ان کی مغفرت کی دعا مانگتی ہوئی چلی آئیں۔ (1)(طبری ص۱۴۲۱)
ایک انصاری عورت کا صبر
ایک انصاری عورت جس کا شوہر، باپ، بھائی سبھی اس جنگ میں شہید ہو چکے تھے تینوں کی شہادت کی خبر باری باری سے لوگوں نے اُسے دی مگر وہ ہر بار یہی پوچھتی رہی یہ بتاؤ کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کیسے ہیں؟ جب لوگوں نے اس کو بتایا کہ الحمدﷲ وہ زندہ اور سلامت ہیں تو بے اختیار اس کی زبان سے اس شعر کا مضمون نکل پڑا کہ ؎
تسلی ہے پناہ بے کساں زندہ سلامت ہے
کوئی پروا نہیں سارا جہاں زندہ سلامت ہے
اللہ اکبر!اس شیردل عورت کے صبروایثارکاکیاکہنا؟شوہر،باپ،بھائی، تینوں کے قتل سے دل پرصدمات کے تین تین پہاڑگرپڑے ہیں مگرپھربھی زبان حال سے اس کایہی نعرہ ہے کہ ؎
میں بھی اور باپ بھی، شوہر بھی، برادر بھی فدا
اے شہ دیں! ترے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم(2)
(طبری ص۱۴۲۵)1۔۔۔۔۔۔الاکتفا،باب ذکر مغازی الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ج۱،ص۳۸۶،۳۸۷ 2۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، باب غزوۃ احد، ص۳۴۰