| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
تھی کیونکہ حضرت حمزہ ہی نے جنگ ِ بدر کے دن ہند کے باپ عتبہ کو قتل کیا تھا ۔جب اس بے درد نے حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی لاش کو پا لیا تو خنجر سے ان کا پیٹ پھاڑ کر کلیجہ نکالااور اس کو چبا گئی لیکن حلق سے نہ اترسکااس لئے اگل دیا تاریخوں میں ہند کا لقب جو ''جگرخوار'' ہے وہ اسی واقعہ کی بنا پر ہے ۔ہند اور اس کے شوہر ابو سفیان نے رمضان ۸ھ میں فتح مکہ کے دن اسلام قبول کیا۔رضی اﷲ تعالیٰ عنہم(1) (زُرقانی ج۲ ص۴۷ وغیرہ)
سعد بن الربیع کی وصیت
حضرت زید بن ثابت رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت سعد بن الربیع رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی لاش کی تلاش میں نکلا تومیں نے ان کو سکرات کے عالم میں پایا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ تم رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے میرا سلام عرض کر دینااور اپنی قوم کوبعدسلام میرایہ پیغام سنا دینا کہ جب تک تم میں سے ایک آدمی بھی زندہ ہے اگر رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم تک کفار پہنچ گئے تو خدا کے دربار میں تمہارا کوئی عذر بھی قابل قبول نہ ہو گا۔ یہ کہا اور ان کی روح پرواز کر گئی۔ (2)(زُرقانی ج۲ ص۴۸)
خواتین اسلام کے کارنامے
جنگ ِ اُحد میں مردوں کی طرح عورتوں نے بھی بہت ہی مجاہدانہ جذبات کے ساتھ لڑائی میں حصہ لیا۔ حضرت بی بی عائشہ اور حضرت بی بی اُمِ سلیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کے بارے میں حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ یہ دونوں پائینچے چڑھائے
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، غزوۃ احد، ج۲،ص۴۴۰ ومدارج النبوت، قسم سوم، باب چہارم،ج۲،ص۱۲۰ 2۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی ، باب غزوۃ احد، ج۲،ص۴۴۵