یعنی اے اﷲ!میری قوم کو بخش دے وہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔(1)
(مسلم غزوۂ احد ج۲ ص۹۰)
حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم دندان مبارک کے صدمہ اور چہرهٔ انور کے زخموں سے نڈھال ہو رہے تھے۔ اس حالت میں آپ ان گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں گرپڑے جوابوعامرفاسق نے جابجاکھودکران کوچھپادیاتھاتاکہ مسلمان لاعلمی میں ان گڑھوں کے اندر گرپڑیں۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپکا دست مبارک پکڑا اور حضرت طلحہ بن عبیداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے آپ کو اٹھایا۔ حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے خَود (لوہے کی ٹوپی) کی کڑی کا ایک حلقہ جو چہرهٔ انور میں چبھ گیا تھا اپنے دانتوں سے پکڑ کر اس زور کے ساتھ کھینچ کر نکالا کہ ان کا ایک دانت ٹوٹ کر زمین پر گر پڑا۔ پھر دوسرا حلقہ جو دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا ۔ چہرهٔ انور سے جو خون بہا اس کو حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے والد حضرت مالک بن سنان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جوش عقیدت سے چوس چوس کر پی لیااورایک قطرہ بھی زمین پر گرنے نہیں دیا۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مالک بن سنان! کیا تو نے میرا خون پی ڈالا۔ عرض کیا کہ جی ہاں یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم ارشاد فرمایاکہ جس نے میراخون پی لیا جہنم کی کیامجال جواس کوچھوسکے۔(2) (زُرقانی ج۲ ص۳۹)
اس حالت میں رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اپنے جاں نثاروں کے ساتھ پہاڑ کی بلندی پر چڑھ گئے جہاں کفار کے لئے پہنچنا دشوار تھا۔ ابو سفیان نے دیکھ لیااور