یا رسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم آپ میری پیٹھ کے پیچھے ہی رہیں میرا سینہ آپ کے لئے ڈھال بنا ہوا ہے۔ (1)(بخاری غزوۂ احد ص۵۸۱)
حضرت قتادہ بن نعمان انصاری رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے چہرهٔ انور کو بچانے کے لئے اپنا چہرہ دشمنوں کے سامنے کئے ہوئے تھے۔ناگہاں کافروں کا ایک تیر ان کی آنکھ میں لگا اور آنکھ بہہ کر ان کے رخسار پر آ گئی۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے ان کی آنکھ کو اٹھا کرآنکھ کے حلقہ میں رکھ دیااور یوں دعا فرمائی کہ یااﷲ!عزوجل قتادہ کی آنکھ بچا لے جس نے تیرے رسول کے چہرہ کوبچایا ہے۔ مشہور ہے کہ ان کی وہ آنکھ دوسری آنکھ سے زیادہ روشن اورخوبصورت ہوگئی۔(2)
(زُرقانی ج۲ ص۴۲)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ بھی تیر اندازی میں انتہائی با کمال تھے ۔یہ بھی حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مدافعت میں جلدی جلدی تیر چلا رہے تھے اور حضورانورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم خود اپنے دست مبارک سے تیر اُٹھا اُٹھا کر ان کو دیتے تھے اورفرماتے تھے کہ اے سعد!تیر برساتے جاؤتم پر میرے ماں باپ قربان۔(3)
(بخاری غزوۂ احد ص۵۸۰)
ظالم کفار انتہائی بے دردی کے ساتھ حضور انور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر تیر برسا رہے تھے مگر اس وقت بھی زبان مبارک پر یہ دعا تھی
رَبِّ اغْفِرْ قَوْمِیْ فَاِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنِ