Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
276 - 872
فوج لے کر وہ بھی پہاڑ پر چڑھنے لگالیکن حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اور دوسرے جان نثار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے کافروں پر اس زور سے پتھر برسائے کہ ابو سفیان اس کی تاب نہ لا سکااورپہاڑسے اترگیا۔(1)

حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کے ساتھ پہاڑ کی ایک گھاٹی میں تشریف فرما تھے اور چہرهٔ انور سے خون بہہ رہا تھا۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنی ڈھال میں پانی بھر بھر کر لا رہے تھے اور حضرت فاطمہ زہراء رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اپنے ہاتھوں سے خون دھو رہی تھیں مگرخون بند نہیں ہوتا تھا بالآخر کھجور کی چٹائی کا ایک ٹکڑا جلایا اور اس کی راکھ زخم پر رکھ دی تو خون فوراً ہی تھم گیا۔(2)(بخاری غزوۂ احد ج۲ ص۵۸۴)
ابو سفیان کا نعرہ اور اس کا جواب
ابو سفیان جنگ کے میدان سے واپس جانے لگا تو ایک پہاڑی پر چڑھ گیا اور زور زور سے پکارا کہ کیا یہاں محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) ہیں؟ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اس کا جواب نہ دو،پھر اس نے پکارا کہ کیا تم میں ابوبکرہیں؟ حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی کچھ جواب نہ دے،پھر اس نے پکارا کہ کیا تم میں عمر ہیں؟ جب اس کا بھی کوئی جواب نہیں ملا تو ابو سفیان گھمنڈ سے کہنے لگا کہ یہ سب مارے گئے کیونکہ اگر زندہ ہوتے تو ضرورمیرا جواب دیتے۔یہ سن کر حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ضبط نہ ہو سکا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چلا کر کہا کہ اے دشمن خدا!تو جھوٹا ہے۔ ہم سب زندہ ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، شان عاصم بن ثابت، ص۳۳۳

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب ۲۶، الحدیث:۴۰۷۵،ج۳،ص۴۳
Flag Counter