جب حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم زخمی ہو گئے تو چاروں طرف سے کفار نے آپ پر تیرو تلوار کا وار شروع کر دیااورکفار کا بے پناہ ہجوم آپ کے ہر چہار طرف سے حملہ کرنے لگاجس سے آپ کفار کے نرغہ میں محصور ہو نے لگے۔ یہ منظر دیکھ کر جان نثار صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کاجوش جاں نثاری سے خون کھولنے لگااور وہ اپنا سر ہتھیلی پر رکھ کر آپ کو بچانے کے لئے اس جنگ کی آگ میں کود پڑے اور آپ کے گرد ایک حلقہ بنا لیا۔ حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جھک کر آپ کے لئے ڈھال بن گئے اور چاروں طرف سے جو تلواریں برس رہی تھیں ان کو وہ اپنی پشت پر لیتے رہے اور آپ تک کسی تلوار یا نیزے کی مار کو پہنچنے ہی نہیں دیتے تھے۔ حضرت طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی جاں نثاری کا یہ عالم تھا کہ وہ کفار کی تلواروں کے وار کو اپنے ہاتھ پر روکتے تھے یہاں تک کہ ان کا ایک ہاتھ کٹ کر شل ہو گیااور ان کے بدن پر پینتیس یا اُنتالیس زخم لگے۔غرض جاں نثارصحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی حفاظت میں اپنی جانوں کی پروا نہیں کی اور ایسی بہادری اور جاں بازی سے جنگ کرتے رہے کہ تاریخ عالم میں اس کی مثال نہیں مل سکتی۔ حضرت ابو طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نشانہ بازی میں مشہور تھے۔ انہوں نے اس موقع پر اس قدر تیر برسائے کہ کئی کمانیں ٹوٹ گئیں۔ انہوں نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے بٹھا لیا تھا تا کہ دشمنوں کے تیر یا تلوارکا کوئی وار آپ پر نہ آ سکے۔ کبھی کبھی آپ دشمنوں کی فوج کو دیکھنے کے لئے گردن اٹھاتے تو حضرت طلحہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ عرض کرتے کہ یا رسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ گردن نہ اٹھائیں،کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمنوں کا کوئی تیر آپ کو لگ جائے۔