Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
272 - 872
خراش ہے،تم اس قدر پریشان کیوں ہو؟'' اس نے کہا کہ تم لوگ نہیں جانتے کہ ایک مرتبہ مجھ سے محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے کہا تھا کہ میں تم کو قتل کروں گااس لئے۔یہ توبہرحال زخم ہے میراتو اعتقادہے کہ اگر وہ میرے اوپر تھوک دیتے تو بھی میں سمجھ لیتا کہ میری موت یقینی ہے۔(1)

اس کاواقعہ یہ ہے کہ ابی بن خلف نے مکہ میں ایک گھوڑا پالا تھاجس کا نام اس نے ''عود'' رکھا تھا۔ وہ روزانہ اس کو چراتاتھااور لوگوں سے کہتا تھا کہ میں اسی گھوڑے پر سوار ہو کر محمد(صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو قتل کروں گا۔جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ میں اُبی بن خلف کو قتل کروں گا۔چنانچہ ابی بن خلف اپنے اسی گھوڑے پر چڑھ کر جنگ ِ اُحد میں آیا تھا جو یہ واقعہ پیش آیا۔(2) ابی بن خلف نیزہ کے زخم سے بے قرار ہو کر راستہ بھر تڑپتا اور بلبلاتا رہا۔ یہاں تک کہ جنگ ِ اُحد سے واپس آتے ہوئے مقام ''سرف'' میں مر گیا۔(3)                (زُرقانی علی المواہب ج۲ ص۴۵)

اس طرح ابن قَمِیئَہ ملعون جس نے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے رخ انور پر تلوار چلا دی تھی ایک پہاڑی بکرے کو خداوند قہار و جبار نے اس پر مسلط فرما دیا اور اس نے اس کو سینگ مار مار کر چھلنی بنا ڈالااور پہاڑ کی بلندی سے نیچے گرا دیا جس سے اس کی لاش ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر بکھر گئی۔(4)(زُرقانی ج۲ ص۳۹)
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب چہارم، ج۲،ص۱۲۷۔۱۲۹ملتقطاً

2۔۔۔۔۔۔الطبقات الکبریٰ لابن سعد ، باب من قتل من المسلمین یوم احد،ج۲،ص۳۵

3۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃو شرح الزرقانی ،باب غزوۃ احد، ج۲،ص۴۳۷

4۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃو شرح الزرقانی ،باب غزوۃ احد، ج۲،ص۴۲۶
Flag Counter