| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
وسلم نے فرمایا کہ یہ بتا کیا عمرو بن جموح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گھر سے نکلتے وقت کچھ کہا تھا؟ ہند نے کہا کہ جی ہاں!وہ یہ دعا کرکے گھر سے نکلے تھے کہ ''یا اﷲ!عزوجل مجھ کو میدان جنگ سے اہل و عیال میں آنا نصیب مت کر۔ ''آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہی وجہ ہے کہ اونٹ مدینہ کی طرف نہیں چل رہا ہے۔(1)(مدارج جلد۲ ص۱۲۴)
تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم زخمی
اسی سراسیمگی اور پریشانی کے عالم میں جب کہ بکھرے ہوئے مسلمان ابھی رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس جمع بھی نہیں ہوئے تھے کہ عبداﷲ بن قمیئہ جو قریش کے بہادروں میں بہت ہی نامور تھا۔ اس نے ناگہاں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو دیکھ لیا۔ ایک دم بجلی کی طرح صفوں کو چیرتا ہوا آیا اور تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملہ کر دیا۔ ظالم نے پوری طاقت سے آپ کے چہرهٔ انور پر تلوار ماری جس سے خود کی دو کڑیاں رخ انور میں چبھ گئیں۔ ایک دوسرے کافر نے آپ کے چہرهٔ اقدس پر ایسا پتھر مارا کہ آپ کے دو دندان مبارک شہید، اور نیچے کا مقدس ہونٹ زخمی ہو گیا۔ اسی حالت میں ابی بن خلف ملعون اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کو شہید کر دینے کی نیت سے آگے بڑھا۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے ایک جاں نثار صحابی حضرت حارث بن صمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ایک چھوٹا سا نیزہ لے کر ابی بن خلف کی گردن پر ماراجس سے وہ تلملا گیا۔ گردن پر بہت معمولی زخم آیا اور وہ بھاگ نکلامگر اپنے لشکر میں جا کر اپنی گردن کے زخم کے بارے میں لوگوں سے اپنی تکلیف اور پریشانی ظاہر کرنے لگااور بے پناہ ناقابل برداشت درد کی شکایت کرنے لگا ۔اس پر اس کے ساتھیوں نے کہا کہ ''یہ تو معمولی
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب چہارم، ج۲،ص۱۲۴