Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
268 - 872
انصاریوں سے کہا کہ اے جماعت انصار! اگر بالفرض رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شہید بھی ہو گئے توتم ہمت کیوں ہار گئے؟ تمہارا اﷲ تو زندہ ہے لہٰذا تم لوگ اٹھواور اﷲ کے دین کے لئے جہاد کرو،یہ کہہ کر آپ نے چند انصاریوں کو اپنے ساتھ لیا اور لشکر کفار پر بھوکے شیروں کی طرح حملہ آور ہو گئے اور آخر خالد بن ولید کے نیزہ سے جام شہادت نوش کر لیا۔(1)(اصابہ، ترجمہ ثابت بن دحداح)

جنگ جاری تھی اور جاں نثاران اسلام جو جہاں تھے وہیں لڑائی میں مصروف تھے مگر سب کی نگاہیں انتہائی بے قراری کے ساتھ جمال نبوت کو تلاش کرتی تھیں،عین مایوسی کے عالم میں سب سے پہلے جس نے تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کاجمال دیکھا وہ حضرت کعب بن مالک رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی خوش نصیب آنکھیں ہیں،انہوں نے حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو پہچان کر مسلمانوں کو پکارا کہ اے مسلمانو!ادھر آؤ،رسول خدا عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم یہ ہیں،اس آواز کو سن کر تمام جاں نثاروں میں جان پڑ گئی اورہر طرف سے دوڑ دوڑ کر مسلمان آنے لگے،کفار نے بھی ہر طرف سے حملہ روک کر رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر قاتلانہ حملہ کرنے کے لئے سارا زور لگا دیا۔ لشکر کفار کا دل بادل ہجوم کے ساتھ امنڈ پڑااور بار بار مدنی تاجدارصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلمپریلغار کرنے لگامگر ذوالفقار کی بجلی سے یہ بادل پھٹ پھٹ کر رہ جاتا تھا۔(2)
زیاد بن سکن کی شجاعت اورشہادت
    ایک مرتبہ کفار کا ہجوم حملہ آور ہوا تو سرور ِعالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
1۔۔۔۔۔۔الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ، ثابت بن الدحداح ، ج۱،ص۵۰۳

2۔۔۔۔۔۔الاکتفا، باب ذکر مغازی الرسول صلی اللہ علیہ وسلم،ج۱،ص۳۸۰
Flag Counter