Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
269 - 872
''کون ہے جو میرے اوپر اپنی جان قربان کرتا ہے؟'' یہ سنتے ہی حضرت زیاد بن سکن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پانچ انصاریوں کو ساتھ لے کر آگے بڑھے اور ہر ایک نے لڑتے ہوئے اپنی جانیں فدا کر دیں۔ حضرت زیاد بن سکن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ زخموں سے لاچار ہو کر زمین پر گر پڑے تھے مگرکچھ کچھ جان باقی تھی،حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کی لاش کو میرے پاس اٹھا لاؤ،جب لوگوں نے ان کی لاش کو بارگاہ رسالت میں پیش کیاتو حضرت زیاد بن سکن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے کھسک کر محبوبِ خدا صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے قدموں پراپنامنہ رکھ دیااوراسی حالت میں ان کی روح پروازکرگئی۔(1)اﷲ اکبر! حضرت زیادبن سکن رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی اس موت پرلاکھوں زندگیاں قربان !سبحان اللہ
 بچہ ناز رفتہ باشد ز جہاں نیاز مندے

                          کہ بوقت جاں سپردن بسرش رسیدہ باشی
کھجور کھاتے کھاتے جنت میں
 اس گھمسان کی لڑائی اور مار دھاڑ کے ہنگاموں میں ایک بہادر مسلمان کھڑا ہوا،نہایت بے پروائی کے ساتھ کھجوریں کھا رہا تھا۔ ایک دم آگے بڑھااور عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اگر میں اس وقت شہید ہو جاؤں تو میرا ٹھکانہ کہاں ہو گا؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ تو جنت میں جائے گا ۔وہ بہادر اس فرمان بشارت کو سن کر مست و بےخود ہو گیا۔ ایک دم کفار کے ہجوم میں کود پڑااور ایسی شجاعت کے ساتھ لڑنے لگا کہ کافروں کے دل دہل گئے۔ اسی طرح جنگ کرتے کرتے شہید ہو گیا۔(2)  (بخاری غزوۂ اُحد ج۲ ص۵۷۹)
1۔۔۔۔۔۔دلائل النبوۃ للبیہقی ، باب تحریض النبی صلی اللہ علیہ وسلم...الخ،ج۳،ص۲۳۲

2۔۔۔۔۔۔صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ احد، الحدیث:۴۰۴۶،ج۳،ص۳۵
Flag Counter