Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
267 - 872
برہم کرتے چلے جاتے تھے مگر وہ ہر طرف مڑ مڑ کر رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے تھے مگر جمالِ نبوت نظر نہ آنے سے وہ انتہائی اضطراب و بے قراری کے عالم میں تھے۔(1) حضرت انس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چچا حضرت انس بن نضررضی اﷲ تعالیٰ عنہ لڑتے لڑتے میدان جنگ سے بھی کچھ آگے نکل پڑے وہاں جا کر دیکھا کہ کچھ مسلمانوں نے مایوس ہو کر ہتھیار پھینک دئیے ہیں۔حضرت انس بن نضر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے پوچھا کہ تم لوگ یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہو؟ لوگوں نے جواب دیا کہ اب ہم لڑ کر کیاکریں گے؟ جن کے لئے لڑتے تھے وہ تو شہید ہو گئے ۔حضرت انس بن نضررضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اگر واقعی رسول خداصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم شہید ہو چکے توپھر ہم ان کے بعد زندہ رہ کر کیا کریں گے؟ چلو ہم بھی اسی میدان میں شہید ہو کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے پاس پہنچ جائیں۔ یہ کہہ کر آپ دشمنوں کے لشکر میں لڑتے ہوئے گھس گئے اور آخری دم تک انتہائی جوشِ جہاد اور جان بازی کے ساتھ جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہو گئے ۔لڑائی ختم ہونے کے بعد جب ان کی لاش دیکھی گئی تو اسّی سے زیادہ تیرو تلوار اور نیزوں کے زخم ان کے بدن پر تھے کافروں نے ان کے بدن کو چھلنی بنا دیا تھا اور ناک،کان وغیرہ کاٹ کران کی صورت بگاڑ دی تھی،کوئی شخص ان کی لاش کو پہچان نہ سکاصرف ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کو دیکھ کر ان کو پہچانا۔(2)

        (بخاری غزوۂ اُحد ج۲ ص۵۷۹ و مسلم جلد ۲ ص۳۸)

اسی طرح حضرت ثابت بن دحداح رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے مایوس ہو جانےوالے
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت، قسم سوم، باب چہارم، ج۲،ص۱۲۱

2۔۔۔۔۔۔شرح الزرقانی علی المواھب، باب غزوۃ احد،ج۲،ص۴۱۷ملخصاً
Flag Counter