پھرابن قمیہ نے ان کو تیر مار کر شہید کر دیا۔ حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو صورت میں حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے کچھ مشابہ تھے ان کو زمین پر گرتے ہوئے دیکھ کر کفار نے غل مچا دیا کہ(معاذ اﷲ) حضور تاجدارِ عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قتل ہو گئے۔ (2)
اﷲ اکبر!اس آواز نے غضب ہی ڈھا دیامسلمان یہ سن کربالکل ہی سراسیمہ اور پراگندہ دماغ ہو گئے اور میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ بڑے بڑے بہادروں کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمانوں میں تین گروہ ہو گئے۔ کچھ لوگ تو بھاگ کر مدینہ کے قریب پہنچ گئے،کچھ لوگ سہم کر مردہ دل ہوگئے جہاں تھے وہیں رہ گئے اپنی جان بچاتے رہے یاجنگ کرتے رہے ،کچھ لوگ جن کی تعداد تقریباً بارہ تھی وہ رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ساتھ ثابت قدم رہے۔ اس ہلچل اور بھگدڑ میں بہت سے لوگوں نے تو بالکل ہی ہمت ہار دی اور جوجاں بازی کے ساتھ لڑنا چاہتے تھے وہ بھی دشمنوں کے دو طرفہ حملوں کے نرغے میں پھنس کرمجبور و لاچار ہو چکے تھے۔ تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ اور کس حال میں ہیں؟ کسی کو اس کی خبر نہیں تھی۔(3)
حضرت علی شیرخدارضی اﷲ تعالیٰ عنہ تلوار چلاتے اور دشمنوں کی صفوں کو درہم