Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
265 - 872
کیامگریہ سب کے سب شہید ہو گئے۔ اب کیا تھا کافروں کی فوج کے لئے راستہ صاف ہو گیاخالد بن ولید نے زبردست حملہ کر دیا۔ یہ دیکھ کر بھاگتی ہوئی کفارِ قریش کی فوج بھی پلٹ پڑی۔مسلمان مال غنیمت لوٹنے میں مصروف تھے پیچھے پھر کر دیکھا تو تلواریں برس رہی تھیں اورکفار آگے پیچھے دونوں طرف سے مسلمانوں پر حملہ کر رہے تھے اور مسلمانوں کا لشکر چکی کے دو پاٹوں میں دانہ کی طرح پسنے لگا اور مسلمانوں میں ایسی بدحواسی اور ابتری پھیل گئی کہ اپنے اور بیگانے کی تمیز نہیں رہی۔ خود مسلمان مسلمانوں کی تلواروں سے قتل ہوئے۔ چنانچہ حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے والدحضرت یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ خودمسلمانوں کی تلوارسے شہید ہوئے۔ حضرت حذیفہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ چلاتے ہی رہے کہ ''اے مسلمانو! یہ میرے باپ ہیں،یہ میرے باپ ہیں۔'' مگر کچھ عجیب بدحواسی پھیلی ہوئی تھی کہ کسی کو کسی کا دھیان ہی نہیں تھا اور مسلمانوں نے حضرت یمان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو شہید کر دیا۔(1)
حضرت مصعب بن عمیر بھی شہید
پھر بڑا غضب یہ ہوا کہ لشکر اسلام کے علمبردار حضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ پر ابن قمیہ کافر جھپٹا اور ان کے دائیں ہاتھ پراس زور سے تلوار چلا دی کہ ان کا دایاں ہاتھ کٹ کر گر پڑا ۔اس جاں باز مہاجر نے جھپٹ کر اسلامی جھنڈے کو بائیں ہاتھ سے سنبھال لیامگر ابن قمیۂ نے تلوار مار کر ان کے بائیں ہاتھ کو بھی شہید کر دیا دونوں ہاتھ کٹ چکے تھے مگر حضرت عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اپنے دونوں کٹے ہوئے بازوؤں سے پرچم اسلام کو اپنے سینے سے لگائے ہوئے کھڑے رہے اور بلند آواز سے یہ آیت پڑھتے
1۔۔۔۔۔۔المواہب اللدنیۃ والزرقانی ، باب غزوۃ احد، ج۲،ص۴۱۱،۴۱۳ومدارج النبوت، قسم سوم، باب سوم، ج۲،ص۱۱۷
Flag Counter