| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
اس جنگ میں مجاہدین انصار و مہاجرین بڑی دلیری اور جان بازی سے لڑتے رہے یہاں تک کہ مشرکین کے پاؤں اکھڑ گئے۔ حضرت علی و حضرت ابو دجانہ و حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہم وغیرہ کے مجاہدانہ حملوں نے مشرکین کی کمر توڑ دی۔ کفار کے تمام علمبردارعثمان،ابو سعد،مسافع،طلحہ بن ابی طلحہ وغیرہ ایک ایک کرکے کٹ کٹ کر زمین پر ڈھیر ہو گئے ۔کفار کو شکست ہو گئی اور وہ بھاگنے لگے اور ان کی عورتیں جو اشعار پڑھ پڑھ کر لشکر کفار کو جوش دلا رہی تھیں وہ بھی بدحواسی کے عالم میں اپنے ازار اٹھائے ہوئے برہنہ ساق بھاگتی ہوئی پہاڑوں پر دوڑتی ہوئی چلی جا رہی تھیں اور مسلمان قتل و غارت میں مشغول تھے۔(1)
ناگہاں جنگ کا پانسہ پلٹ گیا
کفار کی بھگدڑ اور مسلمانوں کے فاتحانہ قتل وغارت کا یہ منظر دیکھ کر وہ پچاس تیر انداز مسلمان جو درہ کی حفاظت پر مقرر کئے گئے تھے وہ بھی آپس میں ایک دوسرے سے یہ کہنے لگے کہ غنیمت لوٹو،غنیمت لوٹو،تمہاری فتح ہو گئی۔ ان لوگوں کے افسرحضرت عبداﷲ بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر چند روکا اورحضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا فرمان یاد دلایا اور فرمانِ مصطفوی کی مخالفت سے ڈرایا مگر ان تیر انداز مسلمانوں نے ایک نہیں سنی اور اپنی جگہ چھوڑ کر مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہو گئے۔ لشکر کفار کا ایک افسر خالدبن ولید پہاڑ کی بلندی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔جب اس نے دیکھا کہ درہ پہرہ داروں سے خالی ہو گیا ہے فوراً ہی اس نے درہ کے راستہ سے فوج لا کر مسلمانوں کے پیچھے سے حملہ کر دیا۔ حضرت عبداﷲ بن جبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے چند جان بازوں کے ساتھ انتہائی دلیرانہ مقابلہ
1۔۔۔۔۔۔المواھب اللدنیۃ مع شرح الزرقانی، باب غزوۃ احد،ج۲،ص۴۰۵،۴۰۹،۴۱۰ ملتقطاً