حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک میں ایک تلوار تھی جس پر یہ شعر کندہ تھا کہ ؎
فِی الْجُبْنِ عَارٌ وَفِی الْاِقْبَال مَکْرُمَۃٌ
وَالْمَرْءُ بِالْجُبْنِ لاَ یَنْجُوْ مِنَ الْقَدْرٖ
بزدلی میں شرم ہے اور آگے بڑھ کر لڑنے میں عزت ہے اور آدمی بزدلی کرکے تقدیر سے نہیں بچ سکتا۔حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ''کون ہے جو اس تلوار کو لے کر اس کا حق ادا کرے''یہ سن کر بہت سے لوگ اس سعادت کے لئے لپکے مگر یہ فخر و شرف حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نصیب میں تھا کہ تاجدار دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی یہ تلوار اپنے ہاتھ سے حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں دے دی ۔وہ یہ اعزاز پا کر جوش مسرت میں مست و بے خود ہو گئے اور عرض کیا کہ یارسول اﷲ!صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم اس تلوار کا حق کیا ہے؟ ارشاد فرمایا کہ''تو اس سے کافروں کو قتل کرے یہاں تک کہ یہ ٹیڑھی ہو جائے۔''
1۔۔۔۔۔۔مدارج النبوت،قسم سوم، باب سوم، ج۲،ص۱۱۶