مسلمانوں پر تیربرسانے لگی۔اس کے جواب میں انصارنے بھی اس زور کی سنگ باری کی کہ ابوعامراوراس کے ساتھی میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے(1)
(مدارج جلد۲ ص۱۱۶)
لشکر کفار کا علمبردار طلحہ بن ابو طلحہ صف سے نکل کر میدان میں آیا اور کہنے لگا کہ کیوں مسلمانو!تم میں کوئی ایسا ہے کہ یا وہ مجھ کو دوزخ میں پہنچا دے یا خود میرے ہاتھ سے وہ جنت میں پہنچ جائے۔ اس کا یہ گھمنڈ سے بھرا ہوا کلام سن کر حضرت علی شیر خدا رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ ہاں ''میں ہوں'' یہ کہہ کر فاتح خیبر نے ذُوالفقار کے ایک ہی وار سے اُس کا سرپھاڑدیااور وہ زمین پر تڑپنے لگااور شیر خدا منہ پھیرکر وہاں سے ہٹ گئے۔لوگوں نے پوچھا کہ آپ نے اس کا سرکیوں نہیں کاٹ لیا ؟ شیرخدا نے فرمایاکہ جب وہ زمین پر گرا تو اس کی شرمگاہ کھل گئی اور وہ مجھے قسم دینے لگا کہ مجھے معا ف کر دیجیے اس بے حیاکو بے ستردیکھ کرمجھے شرم دا منگیر ہو گئی اس لئے میں نے منہ پھیرلیا۔ (2)(مدارج ج۲ ص۱۱۶)
طلحہ کے بعداس کابھائی عثمان بن ابوطلحہ رجزکایہ شعرپڑھتاہواحملہ آورہوا کہ ؎