حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ!عزوجل وصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میں اس تلوار کو اس کے حق کے ساتھ لیتا ہوں۔ پھر وہ اپنے سر پر ایک سرخ رنگ کا رومال باندھ کر اکڑتے اور اتراتے ہوئے میدان جنگ میں نکل پڑے اور دشمنوں کی صفوں کو چیرتے ہوئے اور تلوار چلاتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے کہ ایک دم ان کے سامنے ابوسفیان کی بیوی ''ہند'' آ گئی۔ حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ارادہ کیا کہ اس پر تلوار چلا دیں مگر پھر اس خیال سے تلوار ہٹالی کہ رسول اﷲ عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس تلوار کے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی عورت کا سر کاٹے۔(1) (زُرقانی ج۲ ص۲۹ و مدارج جلد۲ ص۱۱۶)
حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی طرح حضرت حمزہ اور حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما بھی دشمنوں کی صفوں میں گھس گئے اور کفار کا قتل عام شروع کر دیا۔
حضرت حمزہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ انتہائی جوش جہاد میں دو دستی تلوار مارتے ہوئے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی حالت میں ''سباع غبشانی'' سامنے آ گیا آپ نے تڑپ کر فرمایا کہ اے عورتوں کاختنہ کرنے والی عورت کے بچے! ٹھہر، کہاں جاتا ہے؟ تو اﷲ و رسول سے جنگ کرنے چلا آیا ہے۔یہ کہہ کر اس پر تلوار چلا دی،اور وہ دو ٹکڑے ہو کر زمین پر ڈھیر ہو گیا۔(2)