Brailvi Books

سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم
258 - 872
ہی تھیں کہ ؎
نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقْ		نَمْشِیْ عَلَی النَّمَارِقْ
ہم آسمان کے تاروں کی بیٹیاں ہیں ہم قالینوں پر چلنے والیاں ہیں
اِنْ تُقْبِلُوْا نُعَانِقْ		اَوْ تُدْبِرُوْا نُفَارِقْ
اگر تم بڑھ کر لڑو گے تو ہم تم سے گلے ملیں گے اور پیچھے قدم ہٹایا تو ہم تم سے الگ ہو جائیں گے۔(1)

مشرکین کی صفوں میں سے سب سے پہلے جو شخص جنگ کے لئے نکلا وہ ''ابو عامر اوسی'' تھا۔ جس کی عبادت اور پارسائی کی بنا پر مدینہ والے اس کو ''راہب''کہا کرتے تھے مگر رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے اس کا نام ''فاسق'' رکھا تھا۔ زمانہ جاہلیت میں یہ شخص اپنے قبیلہ اوس کا سردار تھااور مدینہ کا مقبول عام آدمی تھا۔ مگر جب رسول اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو یہ شخص جذبۂ حسد میں جل بھن کر خدا کے محبوب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے لگااور مدینہ سے نکل کر مکہ چلا گیا اور کفارِ قریش کو آپ سے جنگ کرنے پر آمادہ کیا۔اس کو بڑا بھروسا تھا کہ میری قوم جب مجھے دیکھے گی تو رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کا ساتھ چھوڑ دے گی۔ چنانچہ اس نے میدان میں نکل کر پکارا کہ اے انصار!کیا تم لوگ مجھے پہچانتے ہو؟ میں ابو عامر راہب ہوں۔ انصار نے چلا کر کہاہاں ہاں!اے فاسق!ہم تجھ کو خوب پہچانتے ہیں۔ خدا تجھے ذلیل فرمائے۔ ابو عامر اپنے لئے فاسق کا لفظ سن کر تلملا گیا۔ کہنے لگا کہ ہائے افسوس! میرے بعدمیری قوم بالکل ہی بدل گئی ۔پھرکفارِقریش کی ایک ٹولی جو اس کے ساتھ تھی
1۔۔۔۔۔۔کتاب المغازی للواقدی،غزوۃ احد، ج۱،ص۲۲۵
Flag Counter