مقرر فرما دیا اور حضرت عبداﷲ بن جبیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس دستہ کا افسربنا دیااوریہ حکم دیا کہ دیکھو ہم چاہے مغلوب ہوں یا غالب مگرتم لوگ اپنی اس جگہ سے اس وقت تک نہ ہٹنا جب تک میں تمہارے پاس کسی کو نہ بھیجوں۔(1)
(مدارج جلد۲ ص۱۱۵ و بخاری باب مایکرہ من التنازع)
مشرکین نے بھی نہایت باقاعدگی کے ساتھ اپنی صفوں کو درست کیا۔چنانچہ انہوں نے اپنے لشکر کے میمنہ پر خالد بن ولید کو اورمیسرہ پرعکرمہ بن ابو جہل کو افسر بنا دیا،سواروں کا دستہ صفوان بن اُمیہ کی کمان میں تھا ۔تیر اندازوں کا ایک دستہ الگ تھا جن کا سردار عبداﷲ بن ربیعہ تھااورپورے لشکر کا علمبردار طلحہ بن ابو طلحہ تھاجو قبیلۂ بنی عبدالدار کا ایک آدمی تھا۔(2)(مدارج جلد۲ ص۱۱۵)
حضورصلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ پورے لشکر کفار کا علمبردار قبیلۂ بنی عبدالدار کا ایک شخص ہے توآپ نے بھی اسلامی لشکر کا جھنڈاحضرت مصعب بن عمیر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو عطا فرمایاجو قبیلۂ بنو عبدالدار سے تعلق رکھتے تھے۔