| سیرتِ مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم |
جانے لگا تو انہوں نے عرض کیاکہ میں رافع بن خدیج کو کشتی میں پچھاڑلیتا ہوں۔ اس لئے اگر وہ فوج میں لے لئے گئے ہیں تو پھر مجھ کو بھی ضرور جنگ میں شریک ہونے کی اجازت ملنی چاہیے چنانچہ دونوں کا مقابلہ کرایاگیااور واقعی حضرت سمرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوزمین پر دے مارا۔اس طرح ان دونوں پرجوش نوجوانوں کو جنگ ِ اُحد میں شرکت کی سعادت نصیب ہو گئی۔ (1) (مدارج جلد۲ ص۱۱۴)
تاجدارِ دو عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم میدان جنگ میں
مشرکین تو۱۲شوال ۳ ھ بدھ کے دن ہی مدینہ کے قریب پہنچ کر کوہِ اُحدپر اپنا پڑاؤ ڈال چکے تھے مگر حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم ۱۴ شوال ۳ھ بعد نماز جمعہ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ رات کو بنی نجار میں رہے اور ۱۵ شوال سنیچر کے دن نماز فجر کے وقت اُحد میں پہنچے۔ حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اذان دی اور آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھا کر میدان جنگ میں مورچہ بندی شروع فرمائی۔ حضرت عکاشہ بن محصن اسدی کو لشکر کے میمنہ (دائیں بازو)پراور حضرت ابو سلمہ بن عبدالاسد مخزومی کو میسرہ (بائیں بازو) پر اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح و حضرت سعد بن ابی وقاص کومقدمہ (اگلے حصہ) پر اور حضرت مقداد بن عمرو کو ساقہ( پچھلے حصہ)پر افسر مقرر فرمایا(رضی اﷲ تعالیٰ عنہم)اور صف بندی کے وقت اُحد پہاڑ کو پشت پر رکھااور کوہ عینین کوجووادی قناۃ میں ہے اپنے بائیں طرف رکھا۔لشکر کے پیچھے پہاڑمیں ایک درہ (تنگ راستہ)تھاجس میں سے گزر کر کفارِ قریش مسلمانوں کی صفوں کے پیچھے سے حملہ آور ہو سکتے تھے اس لئے حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس درہ کی حفاظت کے لئے پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ
1۔۔۔۔۔۔کتاب المغازی للواقدی،غزوۃ احد، ج۱،ص۲۱۶